It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout. It is a long established fact that a reader will be distracted by the readable content of a page when looking at its layout.

 

 

AN EVENING WITH SEEMANCHAL GANDHI
AN EVENING WITH SEEMANCHAL GANDHI

 الحاج محمد تسلیم الدین  کا انتقال قومی سیاست کا ناقابلِ تلافی نقصانمسلم پولیٹکل کونسل آف انڈیا اور سیمانچل میڈیا منچ کی طرف سے تعزیتی جلسے کا انعقاد بعنوان ' ــ'ایک شام سیمانچل گاندھی کے نام'پٹنہ:سابق مرکزی وزیر اور سیمانچل گاندھی کے نام سے مشہور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تسلیم الدین کا انتقال ملی سیاست کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ انہوں نے زمینی سطح پر اتنی عظیم خدمات انجام دی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار دلی سے تشریف لائے مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے 27 ستمبر کو بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں مسلم پولیٹیکل کونسل آ ف انڈیا اور سیمانچل میڈیا منچ کی طرف سے منعقدہ تعزیتی جلسے میں کیا۔ انہوں نے کہا ہندوستان میں مسلم رہنمائوں کو وزارت تو مل جاتی ہے لیکن انہیں ایسی وزارتیں دی جاتی ہیں جہاں وہ اپنی طاقت کا زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔ تسلیم الدین جیسے رہنما بھی اس تعصب کا شکا ر ہوئے۔ جناب رحمانی نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اس دھلی دھلائی اور سجی سجائی ارتھی جیسی ہے جو سیاست دانوں کے کندھوں پر چل رہی ہے۔ اگر اس ارتھی میں زندگی پیدا نہیں کی گئی تو سیاستدانوں کے ذریعہ یہ کسی شمشان میں جلا ڈالی جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آزادی کے وقت انگریزوں کی طاقت ابھی کی فاشسٹ طاقتوں سے کہیں زیادہ تھی لیکن ہماری ہمت، جواں مردی اور اعتماد نے انہیں گھٹنا ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی ہمارے اندر اگر وہ اعتماد، ہمت اور جواں مردی پیدا ہو جائے تو فرقہ پرست طاقتوں کو بھی منھ کی کھانی پڑے گی۔ اس سے قبل جمیعتہ العلما (بہار) کے حسن احمد قادری نے تسلیم الدین کے سماجی و فلاحی کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس موقع پر طیب ٹرسٹ کے سکریٹری شاہنواز بدر قاسمی  جو کشن گنج سے  تشریف لائے تھے نے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تسلیم الدین صاحب مرحوم  کا جس علاقہ سے تعلق تھا وہ علاقہ ابھی سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے وہاں جو نقصان پہنچایا ہے اس کی صحیح تصویر میڈیا میں اب تک نہیں آ سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم رہنما کو سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے علاقہ کی صورت حال کو قریب سے دیکھیں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کریں۔ تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے رہنما باری اعظمی نے کہا کہ تسلیم الدین ایک بے باک لیڈر تھے۔ وہ اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے بھی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سے آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کرتے تھے۔ وہ عوام کے سچے نمائندہ تھے۔ انہوں نے کبھی مصلحت اندیشی کو راہ نہیں دی۔ بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے تسلیم الدین سے اپنے دریرنہ مراسم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا تسلیم الدین نے سیاست میں رہتے ہوئے بھی اپنی شخصیت کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ جلسے سے  معروف صحافی  جناب ریاض عظیم آبادی  ،اشرف استھانوی  اور ارشاد الحق نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اب  لالو پرساد  اور نتیش کمار کو  تُم کہنے والا کوئی نہیں رہا اب  حق بات منہ پہ کہنے والا بھی کوئی نہیں رہا ۔ سیمانچل میڈیا منچ کی صدر تسنیم کوثر نے کہا کہ ہم نے اپنے اسلاف کو یاد نہیں کیا تو  ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں، جب اشرف استھانوی نے یہ شعر پڑھا کہ : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ،بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا  ۔تو انہوں نے کہا : نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ۔ انکا کہنا تھا کہ ہم  اپنی وراثت کو  بحفاظت آنے والی نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں  سیمانچل گاندھی  کے  اس سیاسی پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کی شخصیت کسی سیاسی پارٹی کی محتاج نہیں تھی۔ وہ صحیح معنی میں  سیمانچل کے عوام کی آواز تھے اور دلوں پہ راج کرتے تھے ۔وہ لیڈر تھے قائد تھے مسیحا تھے ۔ مدرسہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے عہدے دار جناب عبدالقدوس نے  اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ ان کے نام کو دھومل کرنے والی طاقتوں  سے ہوشیار رہیں  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بنائے رکھنے کے لئے آخری سانس تک ڈٹے  رہیں یہی انکا پیغام تھا جسکو یاد رکھا جانا چاہئے ۔۔سرفراز عالم صاحب  نے کہا کہ وہ  والد کے انتقال پر افسردہ و غمزدہ تو ہیں ہی فکر مند بھی ہیں  کہ والد صاحب سیمانچل کے اکثر گاوں  کے لوگوں کو  انکے نام سے یاد رکھتے تھے اور اگر ہمیں کوئی کام دیا کرنے کو  تو  اسکے مکمل ہونے پر ہمارے بتانے کے بعد بھی کراس چیک کرتے تھے  آخری وقت تک وہ کسی نہ کسی کی خبر خیریت دریافت کرتے رہے ۔ اپنے صدارتی خطبے میں جناب نیر الزماں  نے انکے صاحبزادے  ایم ایل اے سرفراز عالم کو نصیحت دی کہ آپکے والد محترم کو سیمانچل گاندھی کا خطاب عوام نے دیا ہے انکی وراثت کو سنجیدگی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے اور یہ آپکی ذمہ داری ہے کہ انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے آگے بڑھیں  لوگ  بھی ساتھ آئیں گے  ۔پروگرام میں شہر کی معزز شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں مرد و خواتین موجود تھے۔   جلسے کی نظامت محترمہ تسنیم کوثر نے کی ۔کارروائی کی ریکارڈنگ اور عکس بندی میں تعاون کیا محترمہ طلعت پروین اور نشاط انجم  نے۔اجلاس میں ایک تعزیتی تجویز بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ سیمانچل میڈیا منچ اور ایم پی سی آئی کا یہ مشترکہ تعزیتی اجلاس سرپنچ سے مرکزی وزیر تک کا سفر طے کرنے والے اور نصف صدی تک سیمانچل کی سیاست میں لگاتار اپنی بادشاہت قائم رکھنے والے اور سات بار سیمانچل کے مختلف اسمبلی حلقوں سے اور پانچ بار سیمانچل کے مختلف حلقوں سے ممبر پارلیامنٹ منتخب ہونے والے ہردل عزیز اور مقبول ملی و سیاسی رہنما الحاج محمد تسلیم الدین کے سانحۂ ارتحال پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ الحاج محمد تسلیم الدین نے سیمانچل میں جس طرح عوام کی خدمت کی ہے اللہ تعالیٰ ان کے اس نیک عمل کا بہترین بدلہ عطا کرے۔ ان کے انتقال سے سیمانچل کا چپا چپا سوگوار اور فکر مند ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ جلد سے جلد اس علاقہ میں ان کا نعمل البدل پیدا کر دے۔ یہ تعزیتی اجلاس حکومت بہار سے مطالبہ کرتا ہے کہ بہار کاحج بھون ان کے نام سے موسوم کیا جائے۔ کیوں کہ پٹنہ میں اس عظیم الشان حج بھون کی شاہکار تعمیر میں مرحوم الحاج محمد تسلیم کا اہم رول تھا۔ جس عرق ریزی کے ساتھ انہوں نے اس حج بھون کو اسلامی فن تعمیر میں ڈھالنے کی کوششیں کیں اس سے سب لوگ واقف ہیں۔ اس کے علاوہ سیمانچل میں ان کی یاد میں کسی اہم شاہراہ کا نام بھی ان کے نام سے موسوم کیا جائے ساتھ ہی کسی بڑے تعلیمی ادارے یا ہوائی اڈے کا نام الحاج محمد تسلیم الدین کے نام پر رکھا جائے تاکہ آنے والی نسل ان کو یاد رکھے ۔ تجویز میں تسلیم الدین کے یوم پیدائش یا یوم وفات کو سرکاری تقریب کی شکل میں منانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیا کہسیمانچل میڈیا منچ اور ایم پی سی آئی کا یہ مشترکہ تعزیتی اجلاس اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے کہ ان کو جنت الفردو س میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)

GLOWING TRIBUTE PAID TO THE LEADERS WITHOUT BORDERS
GLOWING TRIBUTE PAID TO THE LEADERS WITHOUT BORDERS

New Delhi: There is no doubt that Taslimuddin did extensive developmental work but the most remarkable work he did was that he upheld social harmony and spoke fearlessly against social and political injustice. These views were expressed by speakers at an obituary meeting organized to pay tribute to three prominent Muslim leaders – former Union Ministers and sitting Members of Parliament Mohammad Taslimuddin and Sultan Ahmed and, former Karnataka Cabinet Minister and sitting Gulbarga-North MLA Qamarul Islam – who died recently.

The programme, jointly organized by Muslim Political Council of India and Seemanchal Media Manch, was held on Saturday, 23 September 2017 at Hotel River View, Jamia Nagar.

Speaking on this occasion, Member of Parliament Maulana Mohammad Asrarul Haque Qasmi termed the passing away of the three leaders as a “national tragedy”.

He said that Taslimuddin began his political career as a Sarpanch, served the nation for about five decades and died as a Member of Parliament. His services for the development of Seemanchal are unforgettable.

Mentioning the overall condition of Muslims Rajya Sabha MP Ali Anwar Ansari said that the actual reason behind the backwardness of Muslims was the insensitivity of Muslim political leaders of higher stature.

He said that most leaders were bound by party considerations but Taslimuddin opposed his own party leaders.

He described the death of Taslimuddin, Sultan Ahmed and Qamrul Islam as loss of three sincere leaders.

Ansari further said, “Muslims need to forget sectarian and internal differences and also learn from other communities”.

A. Saeed, National President of Social Democratic Party of India, said that Muslim leadership had suffered three more losses and urged people to carry forward their unfinished work. We should take lessons from their long experiences and work for a better future.

Dr Shakeeluzzaman Ansari remembered them as “great politicians” of three different States from where they were elected and served the nation and the community for several decades. He also asked Muslims to stand with political leaders to fight for rights.

Dr Tasleem Ahmad Rahmani, president of MCPI and convener of the programme maintained that Taslimuddin, Sultan Ahmed and Qamarul Islam occupied prominent position among Muslim political figures of India and the void left by their demise would be hard to fill.

He further said that our leaders had fought for India’s freedom. Today again we need to fight for freedom from mental slavery and for safeguarding the country’s composite culture.

SDPI’s Vice President Advocate Sharfuddin Ahmad said, “Post-Partition Muslim leadership was suppressed and those who spoke about the welfare of Muslims were not liked”. This continues even today. Referring to the three leaders, Ahmad said that there was one thing common among them. “They were bold.”

Maulana Ataur Rahman Qasmi described Taslimuddin, the former Union Minister of State for Home Affairs, as a fearless leader who had to pay a heavy price for his truthfulness. Taslimuddin, Sultan Ahmed and Qamarul Islam figured among those leaders who encouraged people, he added.

Research scholar and member of Seemanchal Media Manch, Manzar Imam condemned the media’s poor coverage of news of demise of these and other leaders stating that even Urdu media had failed to highlight the services and achievements of these leaders who had considerable contribution to the uplift of Muslims.

He said that Taslimuddin was a true torch-bearer of Hindu-Muslim unity in whose presence people walked fearlessly and felt empowered. He enjoyed huge respect and love.

Attended by leaders, intellectuals and important personalities the programme was coordinated by Abdul Qaiyoom.

( REPORT BY MANZAR IMAM) 

NATIONAL SEMINAR ON ROHINGYA MIGRANTS
NATIONAL SEMINAR ON ROHINGYA MIGRANTS

REPORT BY NATIONAL HERALD

WATCH VEDIO https://www.nationalheraldindia.com/international/if-modi-can-think-of-indian-muslims-as-dogs-what-hope-could-rohingya-have-aiyar 

Congress leader and former union minister Mani Shankar Aiyar has mounted a scathing attack on Prime Minister Narendra Modi over Centre’s stand on the Rohingya refugee crisis, drawing an analogy between the treatment of the persecuted minority and victims of Gujarat 2002 riots.

“He thinks of Indian Muslims as dogs. What hope is there for Rohingya Muslims,” Aiyar said during his address at a conference on Rohingya refugees in New Delhi on Friday. The leader was referring to provocative remarks Modi had made during an interview with Reuters news agency in 2013, when he was asked for his reaction on riots in Gujarat in 2002.

The event was organised by pressure group Muslim Political Council of India (MPCI) and had senior lawyer Prashant Bhushan and Delhi Minorities Commission head Dr Zafarul-Islam Khan among its prominent speakers.

Aiyar further called the Modi government for Centre’s discriminatory refugee policy, saying that Rohingya were only being targeted because they were Muslim.

“India has always had a rich and proud tradition of welcoming persecuted peoples irrespective of where they come from and their religious beliefs. However, our refugee policy started to change from 2014,” Aiyar said.

The former minister pointed out that three legislations, Passport Act, Foreigners Act and the Citizenship Act, forbade the government from deporting Rohingya Muslims.

The Congressman condemned MoS Kiren Rijiju for threatening to deport Rohingya Muslims.

“I have known him for 20 years. He wanted to join Congress but as things didn’t work out, he approached the BJP. I know him as a really decent man but I can’t understand the reason behind his remarks,” Aiyar said.

The former minister also attacked Myanmar’s counsellor Aung San Suu Kyi, noting that she herself had spent time in India during the peak of political oppression in Myanmar under the military junta.

Earlier, Supreme Court lawyer Prashant Bhushan slammed Centre over their deportation order as he noted that Rohingya Muslims couldn’t be sent back to Myanmar as per international law as there existed a direct threat to their lives. Bhushan is representing two Rohingya refugees who have challenged the government’s deportation directive in Supreme Court.

Bhushan highlighted that India was a signatory to four international conventions- human rights, civil and political rights, torture and enforced disappearance – that prohibited it from sending back Rohingya refugees to Myanmar.

“Even Articles 14 (religious equality) and Article 21 (protection of life and personal liberty) of the Indian Constitution guarantee the safety of Rohingya refugees in India,” the lawyer added.

Bhushan further pointed out that a government notification dated September 7, 2015, excluded Muslims from the list of communities which could be granted exemption from legal proceedings.

He, however, lauded the role of Indian and international media in playing up the plight of Rohingya refugees and expressed hope that pressure from civil society could prompt a re-think on the government’s part.

 

Turkey visit
Turkey visit

India

Journalists & Representatives of Civil Society Delegation

Program

23-29 March, 2015

 

ANKARA

 

23/03/2015, Monday

 

Arrival in Ankara & Check-into the Hotel

 

15.00                           Visits to Historical and Cultural Places

(The Museum of Anatolian Civilizations, the Mosque of Hacı Bayram-ı Veli)

 

24/03/2015, Tuesday

 

10.00-12.30                 Visit to Directorate General of Press and Information (BYEGM)

& Office of Public Diplomacy (KDK)

“The New Story of Turkey”

 

13.30-15.00                 Visit to the Presidency of Religious Affairs

                                    “2000s in Turkey”

 

15.30-17.00                 Visit to Ministry of Foreign Affairs (MFA)

“Turkish Foreign Policy and India-Turkey Relations”

 

 

25/03/2015, Wednesday

 

10.00-12.00                 Meeting with Deputy Prime Minister Numan KURTULMUŞ

 

14.00-15.00                 Visit to Turkish Cooperation and Coordination Agency (TİKA)

“Development Programs of Turkey”

 

15.30-17.30                 Visit to Yunus Emre Institute

“Turkey’s Cultural Diplomacy and Teaching Turkish”

 

18.00-20.00                 Dinner with İbrahim KALIN,

Spokesperson of the Presidency

 

 

26/03/2015, Thursday

 

09.30-12.00                Foundation for Political, Economic and Social Research, Roundtable Meeting

Turkey and India’s Perspectives on Conflict Resolution and Stability in the Middle East and South Asia”

 

13.30-15.00                 Visit to Anadolu Agency,

                                    “Anadolu Agency’s International Vision”

 

15.30-16.30                 Visit to Grand National Assembly of Turkey (TBMM)

“Meeting with Emrullah İşler - Chairman of the Committee on National Education, Culture, Youth and Sports”

 

17.00-18.00                 Visit to Prime Ministry

                                    “Meeting with Hatem ETE, Senior Advisor to the Prime Minister”

“Turkey’s Democracy Experinces”

 

 

GAZİANTEP

 

27/03/2015, Friday

 

Visit to AFAD’s Camp for Syrian Guests in Nizip, Gaziantep 

 

 

İSTANBUL

 

28/03/2015, Saturday

 

Visits to Historical and Cultural Places

(Sultan Ahmet Mosque, Hagia Sophia Museum, the Museum of Turkish and Islamic Arts)

 

29/03/2015, Sunday

 

Visits to Historical and Cultural Places

(IRCICA, Islamic History, Arts and Culture Research Center)

गुज़शता हफ़्ते तुर्की का सफ़र दरपेश रहा। हिंदूस्तान मुस्लिम तंज़ीमों के ज़िम्मे दारान और उर्दू सहाफ़ीयों का एक चौदह रुकनी वफ़द हुकूमत तुर्की की दावत पर वहां गया था । वफ़दका मक़सद जदीद तुर्की में तग़य्युर पज़ीर सयासी , समाजी, इक़तिसादी और दीनी हालात का जायज़ा लेना था साथ ही हिंद तुर्की ताल्लुक़ात की तजदीद भी पेशे नज़र थी । तुर्की और हिंदूस्तान सदीयों से एक दूसरे के बहुत क़रीब रहे हैं । अवामी सतह पर दोनों मुल्कों केताल्लुक़ात एक तारीख़ी दस्तावेज़ की हैसियत रखते हैं । लेकिन 1924में सुकूत ख़िलाफ़त के बाद से इस ताल्लुक़ की गर्मजोशी ख़त्म होगई थी । और तक़सीम-ए-मुलक के बाद तो हिंद तुर्की ताल्लुक़ात की जगह हिंद पाकिस्तान ताल्लुक़ात ने ले ली थी। दूसरी जानिब ख़ुद इंदौर वन तुर्की सैकूलर हुकूमत का क़ियाम ज़िद की हदतक इस्लाम मुख़ालिफ़ होचुका था ऐसे में दोनों ममालिक के माबैन ताल्लुक़ात मुस्तहकम और ख़ुशगवार तो रहे मगर इन में गर्मजोशीकी कमी रही नतीजे में तिजारती और सक़ाफ़्ती और सयासी हर सतह पर तुर्की हिंदूस्तान से दूर होता चला गया । मगर 1980के बाद से तुर्की में एक नई ज़हनीयत की हुकूमत आई है । जो अपने तमाम देरीना दोस्तों से अपने ताल्लुक़ात की तजदीद की ख़ाहां है। इस वफ़द का दौरा इसी ख़ाहिश का नतीजा था।
जदीद तुर्की बिलकुल नए अंदाज़ से सर उभार रहा है । वो तुर्की जिस में अरबी अज़ान पर पाबंदी आइद करदी गई थी । तुर्की टोपी की जगह हैटले चुका था। घर में क़ुरआन बरामद होजाने पर घर जला दिया जाता था। औरतों का हिजाब पहनना इस क़दर ममनू था कि अगर किसी वज़ीर की बीवी हिजाब पहने पाई जाये तो वज़ीर को अपना ओहदा छोड़ना पड़ता था। जदीदीयत के नाम ब्रहंगी जहां आम होचुकी थी। तुर्की ज़बान का रस्म उलख़त अरबी से बदल कर इंग्लिश कर दिया गया था । जहां हुक्मरानी के नाम पर महिज़ फ़ौज का हुक्म चलता था और जमहूरी इंतिख़ाबात के ज़रीये चुनी हुई सरकार भी फ़ौजी हुक्म के बगै़र जुंबिशनहीं करसकती। वुज़राए आज़म तक को ओहदों से बर्ख़ास्त कर दिया जाता था। इस तुर्की में आज घूमिए तो 90साल पुराने अंदाज़ की कहीं झलक भी नहीं मिलती हैरत होती है कि जिसमुलक ने अभी महिज़ 90साल पहले एक अवामी रद्द-ए-अमल के ज़रीये यूटरन लेकर ख़ुद कोयकसर बदल डाला था वही तुर्की गुज़श्ता बीस साल से फिरा पुनी जड़ों पर वापिस जाने की कामयाब जद्द-ओ-जहद कररहा है । वफ़द ने चार दिन अनक़रा में सरकारी हुक्काम के साथ मुलाक़ातों में गुज़ारे । एक दिन ग़ाज़ी इंटेप में पनाह गज़ीनों के साथ के एक कैंप में बसर किया और दो दिन तारीख़ी शहर इस्तंबोल में ग़ैर सरकारी तंज़ीमों के ज़िम्मे दारान के साथ गुज़ारे । पूरे वफ़द पर ज़हनी तौर पर बहुत ख़ुशगवार , हौसलाअफ़्ज़ा और उम्मीद अफ़्ज़ाअसरात मुरत्तिब हुए।
तुर्की की वज़ारत अज़मी के ज़ेर-ए-एहतिमाम पब्लिक डिप्लोमेसी महिकमे के तहत इस वफ़दने नायब वज़ीर-ए-आज़म , सदर तुर्की के सयासी मुशीर , मज़हबी उमूर की वुज़रात के डायरेक्टर , अना दिवल्या ख़बर एजैंसी , ख़ैराती इदारों की अंजुमनों , तिजारती अंजुमनों और ग़ैर सरकारी सयासी प्रैशर ग्रुप के ज़िम्मे दारान से मुलाक़ातें कीं। हैरतअंगेज़ तौर पर तमाम ज़िम्मे दारान के माबैन एक यकसानियत और तसलसुल पाया। ऐसा महसूस होता है कि हुकूमत तुर्की का हर शोबा और आज़ाद अवामी इदारे एक ही तनाज़ुर में सोच भी रहे इस पर अमल भी कररहे हैं और इसी नज़रिए को मज़ीद वुसअत देने के लिए कोशां भी हैं । ना सिर्फ़ ये कि तुर्की में बल्कि आलमी सतह पर इस नज़रिए की तरवीज-ओ-इशाअत के इक़दामात भी किए जा रहे हैं। यूरोप की तहज़ीब से बर्गशता इसी के अली अलर्रग़्म एक इस्लामी नज़रिया सियासत के तरवीज की भरपूर कोशिश की जा रही है और दिलचस्प और मुनफ़रद पहलू ये है कि तुर्की के अवाम और हुकूमत यकसाँ तौर पर इंतिहाई मुसबत, पुरअमन और मुरव्वजाजमहूरी तरीक़ों से ही ये इन्क़िलाब बपा करना चाहते हैं। उस वक़्त जहां एक जानिब इस्लाम का ख़ौफ़ बता कर के सारी दुनिया को इस्लाम मुख़ालिफ़ खे़मे में यकजा करने की कोशिश की जा रही है । वहीं दूसरी जानिब ख़िलाफ़त इस्लामी के क़ियाम के नाम पर दुनिया परग़लबा ॔ासलामी के नारा को बंदूक़ के ज़रीये बुलंद करनेवाली आवाज़ों की भी कोई कमी नहीं है । दाइश, अलक़ायदा, बोको हराम जैसी दहश्तगर्द मगर इस्लाम दुश्मन तंज़ीमें जो दरअसल इसी इस्लाम मुख़ालिफ़ खे़मे को यकजा करने में कुमक पहूँचा रही हैं । ग़ैर जहूरी ,अस्करी और ज़ालिमाना तरीक़ों से इस्लाम को दरकिनार कररही हैं। दोनों के दरमयान आजजदीद तुर्की खड़ा है । जो एक जानिब यूरोप के इस इस्लाम दुश्मन निज़ाम की बीज कन्नी चाहता है वहीं दूसरे महाज़ पर इस्लाम के नाम पर जारी दहश्त गिरदाना सरगर्मीयों से भीनबरदआज़मा है । एक ज़बरदस्त जद्द-ओ-जहद के ज़रीये इस्लाम के तरक़्क़ी पसंद अमन दोस्त, इंसानी उखुवत से भरपूर , नाफ़े इंसानियत तहरीक के तौर पर इस्लाम को पेश कर के ये साबित करने की कोशिश कररहाहै कि इक्कीसवीं सदी की दुनिया में भी इस्लाम एक पुरअमन जमहूरी तर्ज़ हुकूमत के ज़रीये फ़लाही रियासत क़ायम करने की भरपूर सलाहीयतरखता है ।
अपनी इस जद्द-ओ-जहद के साथ पड़ोसी मुलक शाम के अवामी बोहरान से मुतास्सिरा लाखों अफ़राद की दाद रस्सी जिस तरह हुकूमत तुर्की की जानिब से की जा रही है वो असर-ए-हाज़िर की तमाम रफ़ाही और फ़लाही तंज़ीमों और हुकूमतों के लिए नज़ीर की हैसियत रखता है । दो लाख से ज़ाइद शामी पनाह गज़ीनों को तुर्की में मेहमान कहा जाता है। और जो कैंप उन की रिहायश के लिए बनाए गए वो किसी भी तरह एक मुहज़्ज़ब समाज की पोश कॉलोनी से कम हैसियत नहीं रखते जहां ना सिर्फ़ सिरपुर एक पर आसाइश छत दी जा रही है । बल्कि बच्चों को बेहतरीन तालीम-ओ-तर्बीयत ,रोज़गार के मवाक़े , सेहत के इंतिज़ामात औरहिफ़ाज़त ग़रज़ ज़रूरत की हरचीज़ बहुत ही पुरविक़ार अंदाज़ में फ़राहम की जा रही है ।वफ़द के अक्सर अराकीन ने ग़ाज़ी इंटेप के एक रोज़ा दौरे के बाद ये उमूमी तास्सुर दिया कि जो सहूलयात कैम्पों में दी जा रही हैं वो आम हालात के बूद-ओ-बाश से भी कहीं बेहतर है । ख़ुद पनाह गज़ीनों की जानिब से मुख़्तलिफ़ अंदाज़ से तुर्की सरकार की तारीफ़ करते हुए इज़हार-ए-तशक्कुर किया गया।
हकूमत-ए-हिन्द से ताल्लुक़ात को लेकर भी तुर्की के सरकारी हुक्काम काफ़ी पुरजोश नज़र आए । और बार बार इस अमर का इआदा मुख़्तलिफ़ महिकमों के आफ़िसरान करते रहे कि वो सक़ाफ़्ती , तिजारती , तालीमी और सयासी रिश्तों के इस्तिहकाम के साथ अवामीताल्लुक़ात को मज़ीद वुसअत देना चाहते हैं । वाज़िह रहे कि मुलक में बी जे पी सरकार के क़ियाम के बाद हमारे वज़ीर-ए-आज़म और वज़ीर-ए-ख़ारजा ने बहुत से ममालिक का दौरा किया है लेकिन इन में से अक्सर दौरे मशरिक़ बईद के बुद्धिस्ट मुल्कों के किए गए जबकि उन के क़रीब मौजूद मुस्लिम मुल्कों को यकसर अंदाज़ किया गया। मगर तुर्की इन में एक इस्तिस्ना है कि मौजूदा सरकारकी वज़ीर-ए-ख़ारजा ने अभी तक जिन ममालिक का दौरा किया है इन में तुर्की तन्हा मुस्लिम मुलक है । इस से हकूमत-ए-हिन्द की तुर्की के तईं दिलचस्पी का इज़हार होता है । ख़ुद तुर्की में मुक़ीम हिंदूस्तानी सफ़ीर भी इन ताल्लुक़ात की उस्तिवारी के मुआमले में काफ़ी सरगर्म दिखाई दिए।
बहरहाल हालात जो भी हूँ दुनिया की सोलहवीं सब से बड़ी मईशत तुर्की ही है जो बहुत तेज़ी के साथ जानिब बह इस्लाम गामज़न है और दुनियाए इस्लाम तुर्की के दामन में एक महफ़ूज़मुस्तक़बिल के इमकानात तलाश करसकती है

Dr.Tasleem Ahmed Rehmani

मोदी सरकार का ऐक साल
मोदी सरकार का ऐक साल

मोदी सरकार का एक वर्ष:हिन्दू राष्ट्र की ओर प्रस्थान

                                            आलेख : डॉ तसलीम अहमद रहमानी

 

         26 मई को मौजूदा सरकार के गठन को एक साल पूरा हो जाएगा। समाचार पत्र, रेडियो, टीवी, इंटरनेट हर जगह यह बहस जारी है कि पिछले एक साल में मोदी सरकार का  प्रदर्शन कैसा रहा, विभिन्न आयाम से मोदी सरकार के प्रदर्शन को मापा जा रहा है। लेकिन अगर  इस सरकार का आकलन  एक वाक्य में किया  जाए तो मैं कहूंगा कि यूपीए सरकार और एनडीए सरकार में व्यवहारिक कोई अंतर नहीं है। एक ही सिक्के के दो रुख है और बस।

हर मामले जिस पर नरेंद्र मोदी ने चुनाव प्रचार के दौरान यूपीए को  आलोचना का केंद्र बनाया था,उन्हे  प्रधानमंत्री ने न केवल  जारी रखा बल्कि उसे और सख्त कर दिया। चुनाव से ऐन पहले सबसे बड़ा घोटाला  कोयला घोटाला था। नरेंद्र मोदी का वादा था कि वह सरकार बनाते ही उसके अपराधियों को सामने ला कर उनको कानून के हवाले  करके बदतरीन अंजाम तक पहुंचा देंगे। लेकिन एक साल में कुछ फैसले अदालतों ने अपने दम तो किए मगर सरकार खामोश ही रही। यहाँ यह उल्लेख करता चलूं कि भाजपा या राजग के बजाय बार बार नरेंद्र मोदी का शब्द इस लिए इस्तेमाल कर रहा हूँ कि 2014 लोकसभा चुनाव पूरी तरह से नरेंद्र मोदी के व्यक्तित्व पर लड़ा गया था इसमें पार्टी का कोई जिक्र नहीं और एनडीए का तो कोसों दूर तक कोई उल्लेख नहीं था। पार्टी के सभी वरिष्ठ नेताओं को हाषये पर खड़ा कर दिया गया था और हजारों करोड़ रुपये खर्च करके मीडिया में बस एक ही कद का बखान किया जाता रहा ख़ुद नरेंद्र मोदी भी अपने  चुनावी भाषणों में अपने ही व्यक्तिव की चर्चा करते रहे और सारे वादे भी उन्होंने व्यक्तिगत स्तर पर किए थे। उन्होंने खुद के लिए 60 साल नहीं 60 महीने की मांग जनता से कि । युवाओं को रोजगार मुहैया कराने का वादा, काले धन की 100 दिनों में वापसी का वादा, आम जरूरतों की चीज़ों के दामों में 100 दिन के अंदर कमी करने का वचन आदि सभी व्यक्तिगत रूप से किए गए थे। इसलिए जिम्मेदारी भी अब उन्हें व्यक्तिगत रूप से ही लेनी चाहिए।

नरेंद्र मोदी ने पिछले एक साल में अपने दाहिने बाएं रहने वाले लोगों को उनकी क्षमताओं और कद की परवाह किए बिना प्रमोट किया  है।  प्रधानमंत्री बन जाने के बाद अगले 100 दनों के अंदर जो सबसे बड़ा काम उन्होंने क्या वह था अपने सबसे बड़े –ही - विशेष अमित शाह को पार्टी अध्यक्ष बनाना। हालांकि पार्टी में अमित शाह का कद कभी इतना ऊंचा नहीं था कि उन्हें पार्टी का राष्ट्रीय अध्यक्ष बना दिया जाता। उन पर गुजरात दंगों सहित अन्य कई आपराधिक मामलों में मुकदमे भी दर्ज थे। मगर उनकी हर खता से दर गुज़र और उनके राजनीतिक कद की अति पस्ती के बावजूद महज नरेंद्र मोदी से निकटता को सबसे बड़ी योग्यता माना गया और पार्टी की अध्यक्षता उन्हें परोस  कर पार्टी और सरकार दोनों जगह नरेंद्र मोदी ने खुद को पूर्ण डिक्टेटर बना लिया। अरुण जेटली सरकार में दूसरे नंबर पर करार पाए और आश्चर्य तो तब हुआ जब समरती ईरानी जैसी कम ज्ञान और राजनीतिक रूप से बे वजन  लोकसभा चुनाव हार जाने वाली महिला को देश का  सबसे महत्वपूर्ण मंत्रालय मानव कल्याण आवंटित कर दीया  गया  जिसके तहत शिक्षा का अति संवेदनशील कार्य आता है। 125 करोड़ भारतीयों का समान रूप से बराबरी के अधिकार के साथ एक होकर जीने का वादा देने  वाले नरेंद्र मोदी ने चुनाव जीतने के अगले ही दिन उन लोगों का  सम्मान कीया और पदउन्नति दी  जो देश की सबसे बड़ी गैर हिंदू धार्मिक इकाई यानी मुसलमानों (मैं जानबूझ कर शब्द अल्पसंख्यक इस्तेमाल नहीं करना चाहता) को पाकिस्तान भेजने के संकल्प का कुलेयाम ऐलान कर चुके थे। और कुछ अन्य लोगों के लिए चुनाव प्रचार में लगातार साम्प्रदायिक्ता भरे  अपमानजनक बयान देकर वोटों को पोलराएज़ कर रहे थे यहां तक ​​कि मुजफ्फर नगर के बदतरीन दंगो के नामज़द  अपराधियों को  भी पुरस्कृत  किया गया । ऐसे में 60 महीने की मांग करने वाले नरेंद्र दामोदर दास  मोदी की नीयत परधानमंत्री बनते  ही स्पष्ट हो गई थी कि अब की बार मोदी सरकार का समत ए सफर किया  होगी।(पूत के पाँव  पालने में)दिशा स्पष्ट हो जाने के बाद देश का मुसलमान सब्र कर   भी लेता क्यूँकि मुसलमानाने हिंद के लिए यह कोई नई बात नहीं कि मुस्लिम दुश्मनी पर आधारित काम करने वाले लोगों को देश की केंद्रीय और राज्य सरकारें अक्सर समर्थक रही हैं।  कांग्रेस ने ऐसे लोगों को बार बार नवाज़ने में कोई कमी नहीं छोड़ी। मुंबई दंगों के हत्यारे हों या शिवसेना के पूर्व नेता मुरादाबाद  फसादात के अपराधियों और खुद बाबरी मस्जिद के अपराधियों को बहरहाल कांग्रेस ने भी खूब नवज़ा।नवाज़शों के इस मुकाबले में दूसरी धर्मनिरपेक्ष पार्टियां भी पीछे नहीं रहीं जिसे जब मौका मिला उसने तब मुस्लिम दुश्मन लोगों को भरपूर सम्मानित किया  जैसे मोदी सरकार के चहेते सांसद और अत्यधिक कट्टरपंथी मुस्लिम दुश्मन बयानों के लिए मशहूर "साक्षी महाराज"  को पहली बार राज्यसभा में लाने का काम समाजवादी पार्टी ने उस समय किया था जब साक्षी महाराज शहीद बाबरी मस्जिद के मलबे की ईंटें उठाकर लाए थे और घोषणा की थी कि वह इन ईंटों को अपने बेतुलखुला में लगायेंगे। और इन सभी गतिविधियों के बदले समाजवादी  पार्टी ने उन्हें राज्यसभा की सदस्यता प्रदान कर दी थी। अगर सभी धर्मनिरपेक्ष पार्टियां मुस्लिम दुश्मन स्वभाव रखने वाले लोगों को सम्मानित कर  रही हैं और इस  में देश के किसी भी राजनीतिक दल को कोई शर्म महसूस नहीं होती तो मोदी किस बात की शर्म करते। इस सिलसिले को उन्होंने जारी रखा इसीलिए नरेंद्र मोदी से यह शिकायत बेकार  है कि उन्होंने मुस्लिम दुश्मन कट्टरपंथी तत्वों को क्यों सम्मानित किया। उनसे सवाल तो मूल यह है कि मुसलमानों के कल्याण को तो खैर जाने दीजिए। सामान्य रूप से देश के कल्याण के लिए उन्होंने ऐसा किया कर दिया जिससे देश का आम आदमी कोई राहत महसूस कर सके।देश में बिल्कुल निचले स्तर पर जारी भ्रष्टाचार और रिश्वत खोरी  में कोई कमी  नहीं आयी । पुलिस थाना, कचहरी और सरकारी बाबु  दस रुपये से लेकर हजार करोड़ रुपये की रिश्वत, कमीशन और घपलेबाज़ी का सिलसिला  बरकरार है। आम आदमी को अपने वैध काम के लिए रिश्वत दिए बिना कोई राहत पहले भी नहीं मिलती थी अब नरेंद्र मोदी जैसे  कथित तौर पर शरीफ ईमानदार और रुपये पैसे के लालच से दूर राजा हरिश्चन्दर के जमाने में भी कण बराबर लगाम नहीं लगी। उसके खिलाफ कोई नया कानून नहीं लाया गया किसी पुराने कानून में कोई संशोधन नहीं किया गया किसी रिश्वत खोर अधिकारी को गिरफ्तार भी  नहीं किया गया भारत माता के होनहार सपूत भारत माता को ही दोनों हाथों से इसी तरह लूट रहे हैं जैसे पहले लूट रहे  थे और क्यों न हो आखिरकार 800 साल के बाद पहली बार सात्विक  हिंदू लोगों की सरकार जो बनी है।देश में खाने-पीने की कोई बात ऐसी नहीं है जिसमें मिलावट न होती हो यहां तक ​​कि हवा मे भी । हर भारतीय इस मिलावट और वायु प्रदूषण के कारण किसी बीमारी का शिकार है मगर मजाल है कि नरेंद्र मोदी समेत उनकी सरकार के किसी मंत्री या पार्टी के किसी अधिकारी  ने इस संबंध में एक शब्द भी कहा हो ,गोया हर भारतीय मजबूर है कि आहार के नाम पे वह ज़हर भरा अनाज, सब्जी, दाल, फल यहां तक ​​कि पानी का उपयोग करता रहे और अधिकारी अपनी काली कमाई का एक हिस्सा सरकार के मंत्रियो और अधिकारियों और पार्टी पदाधिकारियों को   देकर अपने पाप धोते रहें । इस पर भी सबर  न आए तो गंगा में डुबकी लगाकर या किसी महाराज, साधु, ऋषि मुनि को  एक भारी- भरकम चढ़ावा पेश करके अपने पापों से मुक्ति प्राप्त कर लें। हां अलबत्ता सरकार अगर कुछ करेगी तो मरते हुए लोगों की राहत सेवा के लिए स्वास्थ्य बीमा योजना ले आएगी और इसका ठेका किसी विदेशी  कंपनी को सौंप विदेशी आकाओं को खुश करदेगी  और गरीब आम आदमी की जेब से वो ऐक आखिरी रुपया भी निकाल लेने मे सफल हो जाए गी जो वो पिछली सरकार की आँख सय बचा पाया था-

किसान की ज़मीन किसान के लिए भारत  में धरती मां की हैसियत रखती है अब इस नए नए आज़ाद शुदा भारत में इससे जबरन यह धरती माँ छीन ली जाएगी-

मोआवज़ा  भी औने-पौने दिया जाए गा ,और  यह जमीन किसी कॉर्पोरेट घराने को बेहद सस्ते में दी जाएगी ताकि यह परिवार इस भूमि पर उद्योग लगा  बेतहाशा लाभ कमा सके और इस तरह चुनाव के लिए दिया गया हजारों करोड़ रुपये का चंदा ब्याज सहित प्राप्त किया जा सके।

कहा जा रहा है कि नरेंद्र मोदी की सरकार में विदेश नीति पर सबसे अधिक काम हो रहा है। देश की विदेश मंत्री सुषमा स्वराज और उनका सबसे बड़ा दोष यह है कि वह  नरेंद्र मोदी  खेमे से संबंध नहीं रखतें बल्कि भाजपा के सबसे बड़े मातूब नेता लालकृष्ण आडवाणी खेमे से हैं इनकी मजबूरी  देखो तो विदेश मंत्री होने के बावजूद विदेश नीति पर इनकी  कोई भूमिका नहीं है और सारी नीति महज नरेंद्र मोदी के आसपास घूमती है - प्रधानमंत्री देश में कम ही टिक पाते हैं अधिकांश किसी न किसी विदेशी दौरे पर रहते हैं और विदेश मंत्री अपने घर। सरकार बनाने के पहले ही दिन शपथ ग्रहण समारोह से  ही विदेश नीति के खदोखाल स्पष्ट होने शुरू हो गए थे। और अगले ही सप्ताह से प्रधानमंत्री के विदेशी दौरे भी नेपाल, भूटान, जापान, वियतनाम, म्यांमार, थाईलैंड आदि ऐसा महसूस हुआ कि प्रधानमंत्री अखनड हिंदू राष्ट्र बनाने के बजाय अखनड हिन्दु - बोध राष्ट्र बनाने की चिंता मे अधिक जुट गए और इस जुनून में जापान की धरती पर खड़े होकर चीन के खिलाफ उन्होंने जो कुछ कहा उसने  देश में चीन के बेतहाशा मजबूत बाजार को एकदम कमजोर करके चीन के कान खड़े कर दिए। हाल ही में मुस्लिम पॉलिटिकल काउंसिल द्वारा आयोजित एक सेमिनार  में जनता दल यू के महासचिव के सी त्यागी ने विदेश नीति पर कड़ी आलोचना करते हुए कहा था कि दक्षिण एशिया  के सागरों और बंगाल की खाड़ी में अमेरिकी नौसैनिक बेड़ों की  पहुँच सुनिच्छित करने  के लिए भारतीय विदेश नीति में बदलाव लाया  गया  है। दूसरी ओर पश्चिमी एशिया  के हालया  संकट में अमेरिकी सहयोगी के रूप में भारत को एक फरिक  बनाने की कोशिश भी  की जा रही है इस तरह के एक तटस्थ देश को अपने ही निकटतम पड़ोसियों के विपरीत बनाकर भारत की विदेश नीति के अनुकूल बनाने के बजाय शत्रुतापूर्ण रुख दिया जा रहा है। इस संबंध में इसराइली रक्षा मंत्री का भारत दौरा भी कम महत्वपूर्ण नहीं है। नरेंद्र मोदी के प्रधानमंत्री बनते ही इजराईल के किसी भी मंत्री का यह पहला दौरा था जिसने पहली बार बरमला इस बात को  उजागर किया की  भारत- इजराईल संबंध एक लंबे समय से गुप्त रूप से स्थापित थे मगर नरेंद्र मोदी की सरकार बन जाने के बाद उनके संबंधों को गुप्त रखने की कोई जरूरत नहीं रही।  इसका मतलब बहुत स्पष्ट है गोया विदेश नीति के स्तर पर अब हम इन शक्तियों के दोस्त सहयोगी और सहायक होंगे जो सारी दुनिया में इस्लाम और मुसलमानों के हितों के दुश्मन हैं और हर स्तर पर इस्लाम को मिटाने पे आमादा  हैं।

चार साल अभी बाकी हैं। पिछले एक साल में नरेंद्र मोदी ने जिस तरहा के  इरादे व्यक्त किए  है, इसे अमलीजामा पहनाने के लिए चार साल का समय है  और अगर कम पड़े तो 2019 में एक बार फिर कांग्रेस अपने कदम इसी तरह पीछे हटाए होगी जिस तरह 2014 में हटाए थे ताकि रही सही कसर पूरी करने का मौका नरेंद्र मोदी को मिल जाए और कांग्रेस पर कोई आरोप न आए। विदेश नीति बहुत दूरदृष्टि पर आधारित है। हिंदू और बौद्ध के संयुक्त आबादी दुनिया में दूसरे नंबर की सबसे बड़ी आबादी है। जो मुसलमानों की कुल संख्या से अधिक है तो हिंदू बौद्ध भाई भाई वाला एक ब्लाक क्षेत्र में स्थापित कर दक्षिण एशिया पश्चिम एशिया पर हावी हो ही जाएगा और अखनड हिंदू बौद्ध भारतीय क्षेत्र की स्थापना भी अमल में आ जाएगा। और अमेरिका और इजराईल की मुराद पूरी हो जाएगी। (चीन का कोई उल्लेख नहीं है) महंगाई की मार, घोटालों का जोर, रिश्वत का गर्म बाजार, किसानों की बदहाली, मजदूरों की चिंता इन सब मामलों से किसी सरकार को पहले भी कोई लेना देना  नहीं था और अब भी नहीं हे अवामी  हितों से अधिक राजनीतिज्ञों के हितों को प्राथमिकता हमेशा से रही है और अब भी है दूसरी समस्या देश को कानूनी तौर पर हिनदुराष्ट्र  बनाने की  है सो अगर कोई कसर बचे तो संविधान में संशोधन करने के लिए देश के दूसरे राजनीतिक दलों से हिंदुत्व के नाम मोल भाव कर के वो  भी किया जा सकता है। बहरहाल बंगाल में ममता दीदी ने हाल ही में इसके संकेत दे दिए हैं। जयललिता, मुलायम सिंह यादव जैसे लोग पहले ही उसके संकेत दे चुके हैं। नरेंद्र मोदी  के निरंकुश नेतृत्व में नए भारत के निर्माण की ओर परस्थान कर चुके  भारतीयों को 800 साल बाद बनने वाली पहली हिंदू सरकार का एक साल मुबारक हो।