الحاج محمدتسلیم الدین  کا انتقال قومی سیاست کا ناقابلِ تلافی نقصانمسلم پولیٹکل کونسل آف انڈیا اور سیمانچل میڈیا منچ کی طرف سے تعزیتی جلسے کا انعقاد بعنوان ' ــ'ایک شام سیمانچل گاندھی کے نام'پٹنہ:سابق مرکزی وزیر اور سیمانچل گاندھی کے نام سے مشہور راشٹریہ جنتا دل کے رہنما تسلیم الدین کا انتقال ملی سیاست کا ایک عظیم خسارہ ہے۔ انہوں نے زمینی سطح پر اتنی عظیم خدمات انجام دی ہیں جنہیں کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ ان خیالات کا اظہار دلی سے تشریف لائے مسلم پولیٹیکل کونسل آف انڈیا کے صدر ڈاکٹر تسلیم احمد رحمانی نے 27 ستمبر کو بہار اردو اکادمی کے سمینار ہال میں مسلم پولیٹیکل کونسل آ ف انڈیا اور سیمانچل میڈیا منچ کی طرف سے منعقدہ تعزیتی جلسے میں کیا۔ انہوں نے کہا ہندوستان میں مسلم رہنمائوں کو وزارت تو مل جاتی ہے لیکن انہیں ایسی وزارتیں دی جاتی ہیں جہاں وہ اپنی طاقت کا زیادہ استعمال نہیں کر سکتے۔ تسلیم الدین جیسے رہنما بھی اس تعصب کا شکا ر ہوئے۔ جناب رحمانی نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت اس دھلی دھلائی اور سجی سجائی ارتھی جیسی ہے جو سیاست دانوں کے کندھوں پر چل رہی ہے۔ اگر اس ارتھی میں زندگی پیدا نہیں کی گئی تو سیاستدانوں کے ذریعہ یہ کسی شمشان میں جلا ڈالی جائے گی۔ انہوں نے یاد دلایا کہ آزادی کے وقت انگریزوں کی طاقت ابھی کی فاشسٹ طاقتوں سے کہیں زیادہ تھی لیکن ہماری ہمت، جواں مردی اور اعتماد نے انہیں گھٹنا ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔ آج بھی ہمارے اندر اگر وہ اعتماد، ہمت اور جواں مردی پیدا ہو جائے تو فرقہ پرست طاقتوں کو بھی منھ کی کھانی پڑے گی۔ اس سے قبل جمیعتہ العلما (بہار) کے حسن احمد قادری نے تسلیم الدین کے سماجی و فلاحی کاموں پر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔ اس موقع پر طیب ٹرسٹ کے سکریٹری شاہنواز بدر قاسمی  جو کشن گنج سے  تشریف لائے تھے نے مرحوم رہنما کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ تسلیم الدین صاحب مرحوم  کا جس علاقہ سے تعلق تھا وہ علاقہ ابھی سب سے زیادہ توجہ کا مستحق ہے۔ سیلاب کی تباہ کاریوں نے وہاں جو نقصان پہنچایا ہے اس کی صحیح تصویر میڈیا میں اب تک نہیں آ سکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم رہنما کو سچا خراج عقیدت یہی ہوگا کہ ہم ان کے علاقہ کی صورت حال کو قریب سے دیکھیں اور پریشان حال لوگوں کی مدد کریں۔ تعزیتی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کانگریس پارٹی کے رہنما باری اعظمی نے کہا کہ تسلیم الدین ایک بے باک لیڈر تھے۔ وہ اپنی پارٹی میں رہتے ہوئے بھی پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں سے آنکھ میں آنکھ ملا کر بات کرتے تھے۔ وہ عوام کے سچے نمائندہ تھے۔ انہوں نے کبھی مصلحت اندیشی کو راہ نہیں دی۔ بہار اردو اکادمی کے سکریٹری مشتاق احمد نوری نے تسلیم الدین سے اپنے دریرنہ مراسم پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا تسلیم الدین نے سیاست میں رہتے ہوئے بھی اپنی شخصیت کو کبھی مجروح نہیں ہونے دیا۔ جلسے سے  معروف صحافی  جناب ریاض عظیم آبادی  ،اشرف استھانوی  اور ارشاد الحق نے بھی خطاب کیا اور کہا کہ اب  لالو پرساد  اور نتیش کمار کو  تُم کہنے والا کوئی نہیں رہا اب  حق بات منہ پہ کہنے والا بھی کوئی نہیں رہا ۔ سیمانچل میڈیا منچ کی صدر تسنیم کوثر نے کہا کہ ہم نے اپنے اسلاف کو یاد نہیں کیا تو  ہماری داستاں تک نہ ہوگی داستانوں میں، جب اشرف استھانوی نے یہ شعر پڑھا کہ : ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے ،بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا  ۔تو انہوں نے کہا : نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ،ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی ۔ انکا کہنا تھا کہ ہم  اپنی وراثت کو  بحفاظت آنے والی نسل تک پہنچانا چاہتے ہیں  سیمانچل گاندھی  کے  اس سیاسی پیغام کو عام کرنا چاہتے ہیں جہاں ان کی شخصیت کسی سیاسی پارٹی کی محتاج نہیں تھی۔ وہ صحیح معنی میں  سیمانچل کے عوام کی آواز تھے اور دلوں پہ راج کرتے تھے ۔وہ لیڈر تھے قائد تھے مسیحا تھے ۔ مدرسہ اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے عہدے دار جناب عبدالقدوس نے  اپنی جذباتی تقریر میں کہا کہ ہمیں کوشش کرنی ہوگی کہ ان کے نام کو دھومل کرنے والی طاقتوں  سے ہوشیار رہیں  اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بنائے رکھنے کے لئے آخری سانس تک ڈٹے  رہیں یہی انکا پیغام تھا جسکو یاد رکھا جانا چاہئے ۔۔سرفراز عالم صاحب  نے کہا کہ وہ  والد کے انتقال پر افسردہ و غمزدہ تو ہیں ہی فکر مند بھی ہیں  کہ والد صاحب سیمانچل کے اکثر گاوں  کے لوگوں کو  انکے نام سے یاد رکھتے تھے اور اگر ہمیں کوئی کام دیا کرنے کو  تو  اسکے مکمل ہونے پر ہمارے بتانے کے بعد بھی کراس چیک کرتے تھے  آخری وقت تک وہ کسی نہ کسی کی خبر خیریت دریافت کرتے رہے ۔ اپنے صدارتی خطبے میں جناب نیر الزماں  نے انکے صاحبزادے  ایم ایل اے سرفراز عالم کو نصیحت دی کہ آپکے والد محترم کو سیمانچل گاندھی کا خطاب عوام نے دیا ہے انکی وراثت کو سنجیدگی سے سنبھالنے کی ضرورت ہے اور یہ آپکی ذمہ داری ہے کہ انکے نقش قدم پر چلتے ہوئے آگے بڑھیں  لوگ  بھی ساتھ آئیں گے  ۔پروگرام میں شہر کی معزز شخصیات کے علاوہ کثیر تعداد میں مرد و خواتین موجود تھے۔   جلسے کی نظامت محترمہ تسنیم کوثر نے کی ۔کارروائی کی ریکارڈنگ اور عکس بندی میں تعاون کیا محترمہ طلعت پروین اور نشاط انجم  نے۔اجلاس میں ایک تعزیتی تجویز بھی منظور کی گئی جس میں کہا گیا کہ سیمانچل میڈیا منچ اور ایم پی سی آئی کا یہ مشترکہ تعزیتی اجلاس سرپنچ سے مرکزی وزیر تک کا سفر طے کرنے والے اور نصف صدی تک سیمانچل کی سیاست میں لگاتار اپنی بادشاہت قائم رکھنے والے اور سات بار سیمانچل کے مختلف اسمبلی حلقوں سے اور پانچ بار سیمانچل کے مختلف حلقوں سے ممبر پارلیامنٹ منتخب ہونے والے ہردل عزیز اور مقبول ملی و سیاسی رہنما الحاج محمد تسلیم الدین کے سانحۂ ارتحال پر زبردست خراج عقیدت پیش کرتا ہے۔ الحاج محمد تسلیم الدین نے سیمانچل میں جس طرح عوام کی خدمت کی ہے اللہ تعالیٰ ان کے اس نیک عمل کا بہترین بدلہ عطا کرے۔ ان کے انتقال سے سیمانچل کا چپا چپا سوگوار اور فکر مند ہے اور دعا کرتا ہے کہ اللہ جلد سے جلد اس علاقہ میں ان کا نعمل البدل پیدا کر دے۔ یہ تعزیتی اجلاس حکومت بہار سے مطالبہ کرتا ہے کہ بہار کاحج بھون ان کے نام سے موسوم کیا جائے۔ کیوں کہ پٹنہ میں اس عظیم الشان حج بھون کی شاہکار تعمیر میں مرحوم الحاج محمد تسلیم کا اہم رول تھا۔ جس عرق ریزی کے ساتھ انہوں نے اس حج بھون کو اسلامی فن تعمیر میں ڈھالنے کی کوششیں کیں اس سے سب لوگ واقف ہیں۔ اس کے علاوہ سیمانچل میں ان کی یاد میں کسی اہم شاہراہ کا نام بھی ان کے نام سے موسوم کیا جائے ساتھ ہی کسی بڑے تعلیمی ادارے یا ہوائی اڈے کا نام الحاج محمد تسلیم الدین کے نام پر رکھا جائے تاکہ آنے والی نسل ان کو یاد رکھے ۔ تجویز میں تسلیم الدین کے یوم پیدائش یا یوم وفات کو سرکاری تقریب کی شکل میں منانے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیا کہسیمانچل میڈیا منچ اور ایم پی سی آئی کا یہ مشترکہ تعزیتی اجلاس اللہ تعالی سے دعا کرتا ہے کہ ان کو جنت الفردو س میں جگہ دے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے (آمین)