مشن اردو ویکلی کا پہلا شمارہ حاضر خدمت ہے ۔ 1979ء میں میرے والد مرحوم جناب سلیمان سالک صاحب کی فکر اور جدو جہد کا نتیجہ ہے’’ ہفت روزہ مشن ‘‘ ۔اس زمانے میں میرے والد جو ایک کہنہ مشق شاعر اورعملی سیاست سے وابستہ ایک فکر مند مسلمان تھے ۔انڈین یونین مسلم لیگ سے وابستہ تھے ۔ درحقیقت 1969-70 ء کے زمانے میں دہلی میں آزادی کے بعد پہلی مر تبہ قیام مسلم لیگ کے ہراول دستے میں ان کا شمار ہو تا تھا ۔ دہلی میں مسلم لیگ کو مختصر عرصے تک بام عروج پر رکھنے میں میرے والد کا بھی بڑا رول رہا ۔ دہلی کے اکثر عوامی جلسوں کی نظامت وہی کر تے تھے ۔

مسلم ذہن سیمعمور ایک حساس شاعر جو سیاسی زیروبم سے واقف ہو وہ صحافت سے اچھوتا کیسے رہ سکتا ہے ۔ چنانچہ دلی میں مسلم لیگ کے زوال بعد مسلم لیگ کے ہفتہ وار ترجمان ’’ مستقیم ‘‘ کے بند ہو جانے کے نتیجہ میں صحافتی دنیا میں جو خلاء پیدا ہو ا تھا اسے پر کر نے کے لئے انہوں نے اپنے ذاتی سرمائے اور تنہا کو ششوں سے ’’ ہفت روزہ مشن ‘‘ جاری کیا تھا ۔جو چند سال بڑی کامیابی کے ساتھ جاری رہا ۔ میں اس وقت نو یں کلاس کا طالب علم تھا مگر مشن کی کتابت ، ترجمے ، طباعت سے لیکر فروخت تک کی ساری ذمے داریاں اس وقت بھی مجھ پرعائد تھیں ۔اور والد صاحب کے شانہ بشانہ بس ہم دونوں ہی اس روز ہ ہفت روز کو لیکر چلتے رہے اور پھر وہی ہوا جو ہو نا تھا ۔ وسائل کی کمی اور اخبار بند ۔بعد ازاں چند مر تبہ والد صاحب نے پھر کو شش کی کہ کسی طرح اخبار جاری ہو جائے مگر ہو نہ سکا ۔

ادھر گذشتہ چند سالوں سے میں خود اپنی عوامی زندگی کی بے تحاشہ مصروفیات کے باوجود خواہشمند تھا کہ ’’ ہفت روزہ مشن ‘‘ کی اشاعت پھر سے شروع کی جائے ۔ وسائل بھی بہر حال زیر غور رہے ۔اور یہ حقیقت بھی منہ پھاڑے سامنے رہی کہ اردو زبان میں قابل قدر ہفت روزہ اخباروں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے ۔ روزنامہ اخبارات کی زبان و بیان کا انداز بھی بڑی حد تک مضحکہ خیز ہو تا جا رہا ہے ۔ نیز اردو کا کوئی بھی قابل ذکر خریدہ اب ان ہاتھوں میں موجود نہیں ہے جو اردو والوں کے جذبات و احساسات اور امنگوں کا نقیب بن سکے ۔تاجر پیشہ کارپوریٹ اور سرکاری اشتہارات کے خواہشمند روزی روٹی کے ہاتھوں مجبور ۔اردو کی شدبد رکھنے والوں کی مٹھی میں اردو کی آبروئے صحافت بند ہو کے رہ گئی ہے ۔

اردوں والوں کو جس فکر و آ گہی شعور و افہام کی ضرورت ہے اکثر اخبارات کے کالم اس قسم کے مضامین سے خالی ہیں۔ ملک و قوم اورامت کے جواں سال ہو نہاروں کو جس مثبت طرز فکر کی ضرورت ہے مجبور و محبوث صحافت کے یہ مبینہ شہ پارے اس سے عاری ہیں ۔ کوئی سیاسی جماعتوں کا نقیب ہے ،کوئی ملی تنظیموں کا ،کوئی حکومت وقت کا ،ملک اور ملت کے مفاد کی خاطر بے لاگ ، بے خوف ،بے غرض قلم مفقود تونہیں ہوامگرعنقاء ضرور ہے ۔ یہی سب حالات اس خیال کومہمیزدیتے رہے کہ مشن کو ایک بار پھر جاری کیا جائے اور بے غرض و بے خوف ہو کر امت کی صفوں میں ایک سیاسی مطمعہ نظر کو فروغ دیاجائے ۔ ویلفیئر پارٹی آف انڈیاسے میری وابستگی نے بھی اس خیال کو اورجلاء بخشی ۔

پارٹی ایک مخصوص سیاسی نقطہ نظر کی حامل رہی ہے اور میں خود بھی اپنے زمانہ طفلی سے ہی اس سیاسی نظرے کا حامی رہا ہوں ۔ ملک میں اولین طور پر مسلمانوں کی سیاسی شیرازہ بندی کر کے دیگر برادران وطن کو اس متحدہ شرازے میں اکٹھا کئے بغیر ملک سیاسی بے سمتی کا شکار رہے گا ۔ تما م سیاسی نظریات کو اہل وطن گذشتہ 65 سال میں آزما چکے ہیں اب یہی ایک نظریہ باقی ہے جو ملک اور ملت دونوں کو ایک ایسی سمت عطا کر سکتا ہے جس میں تمام براداران وطن بلا لحاظ مذہب و ملت ، رنگ و نسل علاقہ، محض ہندوستانی شناخت کے ساتھ آگے بڑھ سکتے ہیں اور ایک متعینہ داخلی اور خارجی واقتصادی پالیسی کے ساتھ اہل ملک اور اقوام عالم کے مفاد میں پیش رفت کر سکتے ہیں ۔

اس سیاسی نقطہ نظر کی وضاحت مشن کے صفحات کر تے رہے رہیں گے (انشاء اللہ )۔ انہی سب خیالات بیم و رجا کی گومگوں کی کیفیت میں مبتلا تھا کہ دوماہ قبل کچھ ایسے حالات پیش آئے کہ اچانک میری راہیں گویا روشن ہو گئیں اور پھریکلخت میں نے فیصلہ کر لیا کہ ہفت روزہ مشن کو جاری کیا جائے اور اس کے صفحات کے ذریعے ملک و ملت کو ذہنی و سیاسی غذا فراہم کی جائے ۔ حالات جو بھی ہو ں ایک مجاہدہ ہے جو مجھے کر نا ہے ۔ مر کز میں نئی حکومت کے قیام کے بعد یہ کاوش اور بھی ضروری ہو گئی ملک میں فسطائیت اور سیکولرزم کے مابین بہت باریک سی ایک لائن باقی رہ گئی ہے جسے سمجھنے میں اکثر اہل وطن او ر مسلم قیادت دونوں غلطی کر جاتے ہیں اس کی وضاحت اب از بس ضروری ہے ۔

ویلفیئر پارٹی سے کسی ذاتی ،سیاسی منفعت کی وجہ سے میں وابستہ نہیں ہوامگر ایک نظریہ کی آبیاری پیش نظر ہے ۔ کسی بھی ذاتی منفعت کے لئے ویلفیئر پارٹی سر دست تو مفید نہیں ہے مگر ایک مخلصانہ سیاست کے لئے اس سے بہتر پلیٹ فارم ا بھی نظر نہیں آ تا ۔اس لئے مشن کے صفحات میں پارٹی موجود رہے گی ۔ حالانکہ مشن کا براہ راست پارٹی سے کوئی تعلق یا الحاق نہیں ہے ۔ مشن کی ملکیت میں ابھی تک والد صاحب کا نام ہی موجود ہے ۔2008میں ان کے انتقال کے بعد سے اب تک اس سلسلے میں کچھ سوچا ہی نہیں گیا تھا ۔

چنانچہ جب اس کی اشاعت کا فیصلہ ہوا تو دفتری کارروائی کے طور پر اس کی ملکیت کو بدلنے کی کارروائی کا مرحلہ بھی در پیش آیا اور بڑی ہی نم آنکھوں کے ساتھ اپنے اہل خاندان کے ساتھ بیٹھ کر اس کی NOCپر د ستخط کئے گئے ۔ ہم سب کے لئے وہ ایک جذباتی لمحہ تھا مگر بہت قیمتی !۔ ان سب ذہنی ، فکری اور جذباتی مراحل سے گذرکر چند کہنہ مشق ہاتھوں کی دسترس کے ساتھ مشن آخر کار حاضر ہے ۔ مشن کی ٹیم نے طے کیا ہے کہ اس کے صفحات پر انتہائی معیاری ، معروف اور متوازین فکر رکھنے والے مسلم و غیر مسلم صحافیوں کے مضامین تجزیات اور تحریریں کثرت سے شائع کی جائیں گی ۔ نیز اردو کے انتہائی حساس ، بے خوف اوربے غرض عالمی تجزیہ نگاروں کے مضامین بھی موجود رہیں گے ۔

ملک کی داخلی سیاست، عالمی سیاست کی سازشوں کی بیخ کنی اور دیگر طاقتوں کی ریشہ دوانیاں مر کز میں رہیں گی ۔خواتین کے کالم محض زیب وزینت و آرائش جمالی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ صنف نسواں کی اصل طاقت کو روشناس کرانے کی کو شش مسلسل رہے گی ۔ پر ورش اطفال نیز غذا و صحت اور تاریخ عالم کی سبق آموز حکایات بھی شامل رہیں گی ۔ اس کے بعد قارئین کی فکر ، مشورے اور خواہشات مشعل راہ ہوں گی ۔ حضور مشیت الہیٰ سراپا استغاثہ ہوں کہ میری اور مشن کی ٹیم کی اس مخلصانہ کا وش کو اپنے مقصد کی تکمیل و تحصیل سے ہمکنار فر ما دے ۔آمین !