ویلفیئر پارٹی آف انڈیا سے بادل نخواستہ استعفیٰ دینا پڑا۔ استعفیٰ سے قبل دل اور دماغ کے مابین ایک کشمکش کا سلسلہ رہا ۔ دلsir photo 1-final.jpg انکار کر تا رہا اور دماغ اصرار کرتا رہا ، اس کشمکش کیوجہ گذشتہ ڈھائی سال تک پارٹی کے زمینی ارکان سے میرا رابطہ، ان کی محبت ،ان کا اخلاص ، ان کے پر جوش جذبات ، فلاح امت کی خاطر ان کی وارفتگی، مقصد کی خاطر سب کچھ قربان کردینے کے وہ احساسات جو آج کی دنیا میں مفقود ہےں۔ اور اس پر مستزاد ان کی وہ والہانہ محبت جس کا اظہاروہ ہمیشہ کرتے رہے ۔ مختلف صوبوں میں پارٹی کے ذمے داران اور ضلعی کارکنان ہمیشہ میر ی خاطر فرش راہ رہے۔ استعفیٰ لکھتے وقت ان سب کے چہرے میرے سامنے موجود تھے۔ ان کا اخلاص اور لگن بھی سامنے تھا۔ مگر دماغ مستقل یہ اصرار کرتا رہا کہ ہر چند کے یہ کارکنان مخلص اور محنتی ہیںمگر ان کی کمان جن ہاتھوں میں وہ ہاتھ ان کے اس اخلاص اور لگن کو کسی مثبت تحریک کی صورت میں استعمال کرنے سے ماضی میں بھی قاصر رہے ہیں اور آئندہ بھی اس کی توقع نہیں ہے ۔ خود میر ی وہ حیثیت نہیں ہے کہ میں ان مخلصین کو سمت سفر دے سکوں کیونکہ خود میری کمان ان نادیدہ ہاتھوں میں چلی گئی ہے جو اقدامات سے گریز کرتے ہیں ۔ میرے سامنے پارٹی کے صدر مجتبیٰ فاروق صاحب کا چہرہ بھی تھا ۔ ان سے میر اتعارف بھی کچھ زیادہ قدیم نہیں ہے ۔ وہ جب جماعت اسلامی ہند کے شعبہ¿ ملی وملکی مسائل کے سیکریٹری مقرر ہوئے تھے اور مختلف تنظیموں کے ر ابطے میں آئے تھے تبھی میر ی ان سے پہلی ملاقات رحمن خان صاحب کے گھر پر ہوئی تھی جہاں بیشتر مسلم تنظیموں کا ایک وفد جمع تھا۔ اس ملاقات کے بعد سے میرا رابطہ ان سے کبھی منقطع نہیں ہوا۔بلکہ رابطہ ایک مضبوط دوستی کی صورت میں استوار ہوتاچلا گیا۔ اور اس دوستی کی بنیاد محض یہ تھی کہ میں نے ان کی شخصیت میں ایک بھر پور دوست پایا۔ مسائل کے تئیں انتہائی فکرمند ، بے نیاز ، مخلص ، دانشور ، دواندیش مثبت فکروفہم سے آراستہ سیاسی شعور سے مزین ،دنیا کی مختلف دینی اور سیاسی تحریکات سے واقف، بھرپور مطالعہ اور دین حنیف پر اسی طرح عامل جیسے ایک مومن کو ہونا چاہئے ۔ مصلحتوں سے دور بے باک مومن یہ وہ اوصاف ہیں جنہوں نے مجتبیٰ کی فاروق کی شخصیت کو انتہائی پرکشش اور جاذبیت سے بھر پور بنادیا ہے ۔ میں نے محسوس کیا کہ ایک میںہی نہیں بلکہ جو شخص بھی ان سے ملتاہے ان کا گرویدہ ہوجاتا ہے ۔ اور غالباً یہی وجہ ہے کہ بہت کم عرصے میں وہ جماعت اسلامی کے تقریباً تمام ہی عہدوں پر فائز ہوچکے سوائے قیم، نائب امیراور امیر جماعت کے تمام ہی عہدوں پر انہوں نے اپنی تنظیمی صلاحیتوں کا کما حقہ مظاہرہ کیا ۔ جبکہ جماعت میں ایسے لوگوں کی بھی کوئی کمی نہیں جن کی پوری پوری عمریں جماعت میں گزر گئیں مگروہ رکن سے آگے نہیں بڑھ سکے اور ایسے لوگوں کی بھی جماعت میں کمی نہیںبظاہر تو فعال اور متحرک محسوس ہوتے ہیں اور لمبے عرصے سے جماعت اسلامی سے جڑے ہیں ۔مگر جماعتی نظم میں رکن شوریٰ کی حیثیت سے آگے کبھی نہیں بڑھ سکے۔ مجتبیٰ فاروق کی باصلاحیت شخصیت کا یہی سب سے بڑا ثبوت ہے کہ بہت مختصر مدت میں انہوں نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا ہر ایک سے منوالیا۔ میرے سامنے بڑا سوال یہی تھا کہ اگر اس قسم کا رکن جماعت ویلفیئر پارٹی میں محفوظ نہیں ہے اور عہدوں کے خواہشمند ہوا وہوس سے مغلوب ، ذاتی اختلافات و تنازعات کو امت کے مفاد پر ترجیح دینے والے چند لوگوں کے ہاتھوں بھری مجلس میں ایک مخلص اور ایماندار شخصیت کو بے جا ہدف تنقید بنایا جائے اور اخلاق و کردار کی تمام حدود کو پار کر لیا جائے ۔ باقاعدہ خاص قسم کے لوگوں کو میٹنگ میں مدعو کر کے ان سے خطاب کروایا جائے ایک عام سیاسی جماعت کی مانندگروہ بندی کر کے ایک نیک شخصیت کو ٹارگیٹ کیا جائے اور جھوٹ در جھوٹ بو ل کر اپنے ہی جھوٹ کوسچ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی جائے اور اس کوشش کو پارٹی کے دست غیب کی درپردہ حمایت بھی حاصل ہو تو پھر ہم جیسے لوگ جونہ تو جماعت کے رکن ہیں ، نہ ہمدرد نہ متفق ، ہماری اس پارٹی میں کیا حیثیت ہوگی؟ایسی پارٹی جو ملک میں اقدار پر مبنی سیاست کرنے کے لئے میدان میں آئی ہو،جو اور دیگر پارٹیوں سے مختلف ہونے کا دعویٰ رکھتی ہو، جس کی تاسیس میں کسی سیکولر مزاج والے کادخل نہ ہوکر ایک فکری اور نظریاتی تنظیم جماعت اسلامی شامل رہی ہو، وہ پارٹی بھی اگر وہی عامیانہ روش اختیار کر رہی ہے اور اس کی پالیسی اور نظریہ بھی ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے مفادات کے مغائرہے تویہ سمجھ لینا چاہئے کہ وہ پارٹی حالات سے خوفزہ ہوکر اپنے اولین اور فطری مخاطبین کا نام بھی لینا نہیں چاہتی اور سیکولرزم کے نام پر مظلومین سے پلہ جھاڑ کر ایک طرف کھڑا ہوجانا چاہتی ہے تو پھر ظاہر ہے کہ میر ے جیسے لوگوں کے لئے بھی اس پارٹی میں کوئیمقام نہیں ہوسکتا۔ میرا استعفیٰ ہر گز اس بنیاد پر نہیں ہے کہ مجتبیٰ فاروق سے میرا ایک ذاتی تعلق ہے اور اب چونکہ وہ پارٹی صدر نہیں تو میں بھی پارٹی میں نہ رہوں ۔ پارٹی میں میر ی شمولیت خالصتاً نظریاتی بنیادوں پر تھی ۔ میں نے مشن کے پہلے اداریہ میں بھی لکھا تھا کہ اپنے زمانہ¿ طفلی سے ہی مولانا مودودی ؒ ، سید قلب شہیدؒ ، حسن البناءؒ جیسے اکابرین کی تصانیف کا مطالعہ کر تا رہا اور ان سے متاثر اور متفق رہا میں نے اس نظریئے سے کبھی سمجھوتہ نہیں کیا ۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی اس نظریئے کے لوگ موجودرہے ہوں ان سے کسی نہ کسی طورپر رابطہ بھی رہا اور ہمدردی بھی ۔لیکن باضابطہ طو ر پر اس نظرےے پر مبنی کسی بھی تنظیم سے میرا کوئی براہ راست تعلق کبھی نہیں رہا کیونکہ نظریات پر عمل پیرائی کے لئے تنظیمی الحاق کو میں نے کبھی ضروری نہیں سمجھا ۔ میر ے لئے ویلفیئر پارٹی میں یہی ایک کشش تھی ۔ مگر بڑا تلخ تجربہ یہ ہے کہ نظریہ ایک الگ شئی ہے اور نظریات کی تنفیذ اور تطبیق کرنے والے افراد کے ذہن الگ ہیں ۔ آج عالم اسلام میں اسی نظریے کو مسلم عوام نے قبول کیا ہے۔ گذشتہ ایک صدی کی جدو جہد ،قربانیوں اورلاکھوں فرزندان توحید کی شہادتوں کے بعد یہ شجر بار آور ہونا شروع ہوا ہے ۔ لیکن افسوس کہ خود ہندوستان میں یہ نظریہ جامد و ساقط محسو س ہوتا ہے اور ا س کی بڑی وجہ یہی ہے کہ اس کے کارکنان اپنی قیادت سے جس اقدامی عوامی تحریک کی امید رکھتے ہیں اس کا شدید فقدان ہے ۔ نظریات سے صرفنظرکر کے شخصیات کے محور پر گھومنے والے تنظیمیں کبھی شجرسایہ دار نہیں بن سکتیں۔ ویلفیئر پارٹی میں اقتدار کی تبدیلی محض نظریاتی بنیادوں پر ہوتی تو اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔ مگر افسوس کہ یہ تبدیلی ہی محض چغل خوری اور منصب کی خاطرہر قسم کی ریشہ دوانیوں پر مبنی ہے ۔ اس کا آغاز 6اکتوبر2012کو اورنگ آباد میں ہونے والے پارٹی کے اوپنگ اجلاس سے ہوا تھا ۔ جہاں پارٹی کے مہاراشٹر یونٹ کا افتتاحی اجلاس تھا جس میں تقریباً 15ہزار لوگوں نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں پارٹی صدر مجتبی فاروق نے جو مدلل، مفصل ،رقت آمیز اور امت کے ضمیر کو جھنجھوڑنے والی جو تقریر کی تھی اور جس کے نتیجے میں وہاں موجود 15ہزار حاضر ین نے فلک شگاف نعروں سے اس تقریر کی پذیرائی کی تھی۔ ایسی تقریر کو مرکز بناکر مسلسل بحث کا آغاز کردیا گیا اور بار بار طے ہوجانے کے باوجود کہ پارٹی ایک ایسی سیکولر پارٹی کے طور پر کام کرے گی جس کے اولین مخاطب مسلمانان ہند ہونگے۔ اس طے شدہ پالیسی سے انحراف کیاجاتا رہاہے اور اس پالیسی کو ہدف ملامت بنایا جاتا رہا اس کے حاملین کو طنز وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا رہا اور بالآخر پارٹی صدر کو مجبور کردیا گیا کہ وہ استعفیٰ دے دیں۔ ان کے خلاف مختلف اجلاسوں میں تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا جاتارہا۔ ویلفیئر پارٹی کا اصل ووٹ کانگریس جیسی نام ونہاد سیکولر مگر دراصل فرقہ پرست پارٹی کے ہاتھوں میںہے ۔کانگریس کے ہاتھو ں سے یہ ووٹ واپس لیے بغیر ویلفیئر پارٹی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ میرے بے تحاشہ اصرار کے بعد یہ تو طے کرلیا گیا کہ پارٹی کانگریس کو بھی فرقہ پرست اور موقع پرست مانے گی مگر پارٹی میں کانگریس کے خلاف کچھ بھی بولنا ہمیشہ ہی مہنگا پڑا۔ بالآخر مجھے لگنے لگا کہ ویلفیئر پارٹی ایک ایسی بس کانام ہے جس کی ڈرائیونگ سیٹ پروہ طبقہ بیٹھا ہے جو فسطائیت کو شکست دینے کے نام پر ہمیشہ ہی کانگریس کی تائید کر تاہے ۔ پارٹی کے صدر ، سیکریٹر ی تو محض اس بس کے کنڈیکٹر اور کلینر ہیں ایسے میں پارٹی کوتشکیل دینے والے لوگ بھلے ہی پارٹی سے کسی بھی وابستگی کا انکار کرتے رہیں مگر سچ یہ ہے کہ پارٹی کی اصل کمان انہیں کانگریس پسند لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ اور میں کسی کانگریسی بس کا مسافرتو بہر حال نہیں ہوسکتا۔ خوب پردہ ہے کہچلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں